Salal Baloch,Human Right violation, Freedom, sindh, Balochistan , BSO, BSO Azad, BNM, Abdul Jabbar

Tuesday, May 26, 2020

احتجاج پہ کیمپ میں پورا دن گزارا اور جبری گمشدگی کے شکار بنیں لاپتہ بلوچ افراد کیلیے احتجاجی مظاہرے میں شرکت بھی کیا

ہر عید کے طرح اس بار بھی
میں اور ماما قدیر جب  تو  چار پانچ لوگ عید کے دن کیمپ آہیں زیادہ نہیں لیکن آج کے دن بہت سے ہمدرد کیمپ آہیں احتجاج پہ کیمپ میں پورا دن گزارا اور جبری گمشدگی کے شکار بنیں لاپتہ بلوچ افراد کیلیے احتجاجی مظاہرے میں شرکت بھی کیا، بہت شکریہ ان تمام کا جو اپنوں کے درد کو محسوس کرتے ہیں اور ان کے بازیابی کیلیے آواز بلند کیا ساتھ ہمگام رہیں، باز منتوار ایک بار پھر میں تمام انسان دوست، سیاسی و سماجی کارکن، انسانی حقوق کے کارکن، سوشل میڈیا کے کارکنوں سے درخواست کرتی ہوں انسانی ہمدردی کے بنیاد پہ ریاستی جبری گمشدگی کے خلاف اور جبری گمشدگی کے شکار بنے والے لاپتہ افراد کیلیے آواز بلند کریں ان کے کیس کو آشکار #SaveBalochMissingParsans #SaveMissingParsans #SaveAllMisingParsans #EndEnfocedDisappearans #SaveHumanity

World Sindhi Congress (WSC) is deeply saddened at the death of mother of Abdul Fatah Channa

World Sindhi Congress (WSC) is deeply saddened at the death of mother of Abdul Fatah Channa
. He is the acting president of Jeay Sindh Tahreek and was abducted by agencies on 20thDec 2019 and has remained missing since. She also participated in the protest for the release of Fatah Channa and other missing Sindhi persons. Worried about her son, she got ill since couple of weeks and sadly passed away today longing for her missing son. Sadly the suffering and pain of the families of the missing has been overwhelming but the Pskistani state agencies remain apathetic. WSC offer heartfelt condolences to the grieved. WSC strongly demand from the Pakistani state to release or produce all missing persons in the court of law.

A Century Old Fort of Wadera Noor Muhammad Bangulzai. It's more than hundred years old located in Isplinji (Union Council-Tehsil Dasht) Mastung District, 55 Km from Quetta. #Balochistan

A Century Old Fort of Wadera Noor Muhammad Bangulzai. It's more than hundred years old located in Isplinji (Union Council-Tehsil Dasht) Mastung District, 55 Km from Quetta.
#Balochistan

Extremely Painful and condemnable: #Pakistan army abducted a Baloch civilian Javed Gohram from Mand,

Extremely Painful and condemnable:
#Pakistan army abducted a Baloch civilian Javed Gohram from Mand,
#Balochistan, tortured and released him after 10 days with life threatening conditions. Today he succumbed to sufferings from the severe tortures he experienced during his detention.

THIS IS SINDH. RICH LAND POOR PEOPLE OF SINDHI.

This is poor People of sindh . Corruption ist High.  Rich LAND and Poor Peoples of sindhi. In the Sindh there ist no such Hospital for poor People.  The Corrupt System destroy the LAND . Such no hospital for People.


Montag Nachmittag kamen bis zu 70 Personen am Gänseliesel zusammen um an den in Schweden tot aufgefundenen belouchischen Journalisten Sajid Hussain zu gedenken

 Am Montag Nachmittag kamen bis zu 70 Personen am Gänseliesel zusammen um an den in Schweden tot aufgefundenen belouchischen Journalisten Sajid Hussain zu gedenken.

Es wird davon ausgegangen, das der regimekritische Journalist in Schweden vom pakistanischen Geheimdienst ermordet wurde.
Die Trauernden entzündete Kerzen und hielten Blumen, Plakate und
Transparente, mit denen auf das Verschwinden, die politische Situation
in Belutschistan und die Verfolgung von Journalisten aufmerksam gemacht wurde.

Belutschistan ist eine Region in Pakistan, die seit 1948 von Pakistan
besetzt und kontrolliert wurde. Die Bevölkerung Belutschistans wird von
der pakistanischen Regierung als Minderheit unterdrückt. Es kommt immer
wieder zu Übergriffen und Morden durch das pakistanische Militär,
belutschische Aktivist_innen sprechen von einem “systematischen

خڑکمر واقعے کے آشکارا راز ایمل خٹک پاکستان کی سیاسی تاریخ بالعموم اور پشتونوں کی بالخصوص سیاسی واقعات سے بھری پڑی ہے

خڑکمر واقعے کے آشکارا راز 

ایمل خٹک 

پاکستان کی سیاسی تاریخ بالعموم اور پشتونوں کی بالخصوص سیاسی واقعات  سے بھری پڑی ہے ۔ جو عوامی حقوق اور حاکمیت کیلئے کی جانے والی انتھک جہدوجہد اور بیمثال قربانیوں کی لازوال داستانیں ھیں۔  خڑکمر شمالی وزیرستان کا واقعہ بھی بابڑہ کی واقعے کی طرح ایک ناقابل فراموش سیاسی سانحہ ہے ۔ گزشتہ سال 26 مئی کو واقع ھونے والے اس خونی اور سیاہ واقعے کے خلاف ایک ہی دن پاکستان کے علاوہ نارتھ امریکہ اور یورپ کے اھم شہروں میں احتجاجی مظاھرے ھوئے تھے۔ 

خڑکمر کا واقعہ کیا ہے ۔ جب شورش زدہ علاقے میں دہشت گرد کاروائی ھوتی ہے ۔ اس کے فورا بعد سیکورٹی فورسز سرچ آپریشن شروع کرتی ہے ۔ علاقے کو گھیرے میں لیا جاتا ہے غیراعلانیہ کرفیو نافذ کی جاتی ہے اور گھر گھر تلاشی لی جاتی ہے ۔ اور عملا ھر شہری کے ساتھ دھشتگردوں جیسا سلوک روا رکھا جاتا ہے ۔ اس سلسلے میں عوام گوناگوں مشکلات اور مسائل سے دوچار  ھیں اور بیشمار شکایات کی انبار ہے ۔

عوامی مشکلات اور مسائل کو سمجھے کیلئے گزشتہ پیر کے روز عیدک شمالی وزیرستان میں سرکاری گاڑی  پر ریموٹ کنٹرول بم دھماکہ کی مثال لیں۔ دھماکہ میں ایک فوجی ھلاک تین زخمی ھوتے ھیں۔ دھماکہ کے فورا بعد راہ چلتے راہگیروں اور گاڑیوں پر اندھادھند فائرنگ ھوتی ہے ۔ کوچ ڈرائیور موقع پر ھلاک اور مسافر زخمی ھوتے ھیں ۔ قریبی مدرسہ میں گھس کر مسجد کے اندر اعتکاف میں بیٹھے افراد پر فائرنگ سے ایک شہری ھلاک اور کئی زخمی ھوجاتے ھیں۔ سوشل میڈیا پر عینی شاھدین مثلا زخمیوں کے ویڈیوز اور آڈیوز موجود ھیں۔

خڑکمر شمالی وزیرستان کا واقعہ کچھ یوں ہے کہ علاقہ ڈوگہ مچہ مداخیل کے رہائشیوں کو  سرچ آپریشن کے دوران غیرانسانی سلوک اور زیادتیوں کی شکایات تھی ۔ عوام نے سیکورٹی فورسز کی زیادتیوں کےخلاف 25 مئی 2019 کو دھرنا دیا۔ اگلے دن علاقے کا ایم این اے محسن داوڑ ایک اور ساتھی ایم این اے علی وزیر کے ھمراہ مظاھرین کی فریاد سننے اور دادرسی کی غرض سے ان کے پاس جانے کی کوشش کرتے ھیں ۔ پہلے تو انکو  آگے جانے نہیں دیتے ۔ جب وہ آگے بڑھ جاتے ھیں تو پھر قریبی چیک پوسٹ سے ایم این اے کے قافلے پر اندھادھند فائرنگ کی جاتی ہے۔

سیکورٹی فورسز کی فائرنگ سے چودہ افراد ھلاک اور چوبیس زخمی ھوئے۔ علی وزیر ایم این اے کو موقع پر گرفتار کیاجاتا ہے جبکہ محسن بعد میں۔ سرکار کا دعوی تھا کہ مظاھرین نے سیکورٹی فورسز پر حملہ کیا مگر حملے میں نہتے شہری تو مارے گئے مگر فورسز کا ایک بندہ زخمی تک نہیں ھوا۔ یادرہے کہ شمال وزیرستان میں عوام کے پاس اب اسلحہ نہیں ۔ فوجی آپریشن کے دوران عوام سے اسلحہ جمع کیا گیا ہے ۔

اس واقعے کے حوالے سے بہت سے سوالات جواب طلب ھیں ۔ دنیا بھر میں سیکوریٹی فورسز پر حملہ ایک سنگین جرم سمجھا جاتا ہے اور ایسے حملے کرنے والوں کو سخت ترین سزائیں ملتی ھیں ۔ اس طرح اگر حملہ بیرونی سازش ھو یا اس میں بیرونی ھاتھ ملوث ھو تو اسے بے نقاب کیا جاتا ہے ۔ مگر بیرونی سازشیں بےبنیاد الزامات اور بھونڈے پروپیگنڈے سے نہیں ٹھوس حقائق سے بے نقاب ھوتی ہے ۔ پاکستانی عوام اور عوامی نمائیندے باربار اس واقعے کی تحقیقات کا مطالبہ کررہے ھیں اور اس سانحے کی برسی پر بھی یہ مطالبہ دوہرایا جارہا ہے ۔

اگر سیکورٹی فورسز پر حملے کی جھوٹی کہانی کو سچ مان بھی لیا جائے تو ریاست کے پاس تمام زرائع موجود ھیں اور پرزور عوامی مطالبہ بھی ہے کہ واقعے کی آزادانہ تحقیقات کرائی جائے تو تحقیقات سے اجتناب کیوں ؟ سانحے میں ھلاک اور زخمی باغی شہریوں کیلئے معاوضے کا اعلان کیوں کیا گیا ؟ دو منتخب اراکین اسمبلی جو مظاھرین کی داد رسی کیلئے جاتے ھیں انھیں گرفتار کیا جاتا ہے جبکہ فائرنگ کرنے والے مظاھرین کا کیا بنا ؟ اتنے بڑے واقعے کی عدالتی کاروائی کس مرحلے پر ہے ؟ پشتون تحفظ مومینٹ کے علاوہ ملکی اور بین القوامی انسانی حقوق تنظیمیوں کی  واقعے کی آزادانہ اور غیرجانبدارنہ تحقیقات کے مطالبے کے باوجود اس سے گریز کیوں اور دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ھونے سے کون ڈر رہا ہے! ۔

ایسے واقعات کے حوالے سے تین ریاستی رویئے اھم ھیں ۔ ایک تو ان سانحات کی آزادانہ تحقیقات سے گریز کیاجاتا ہے اور الٹا ان واقعات اور حقائق کو دبانے کی بھرپور کوشش کی جاتی ہے ۔ دوسرا ریاستی ادارے ان سانحات سے سبق سیکھنے اور عوامی مسائل اور مشکلات کو مذاکرات اور بات چیت کے زریعے حل کرنے اور ان کی مناسب دادرسی کی بجائے طاقت کی استعمال کو ترجیع دیتے ہے ۔ تیسرا عموما ایک بلنڈر یعنی  فاش غلطی کو چھپانے کیلئے کئی اور فاش غلطیاں کی جاتی ہے جس سے معاملات حل ھونے کی بجائے مزید سنگین اور عوامی غم وغصے میں اضافہ ھوجاتا ہے ۔

پشتون تحفظ مومینٹ کے ابھرنے کی ایک اھم وجہ شورش زدہ علاقوں میں دھشتگرد کاروائیوں کے بعد سیکورٹی فورسز کا عوام کے ساتھ غیر انسانی اور ھتک آمیز رویہ بھی تھا۔ اور سرچ آپریشن کے نام پر عوام کو بیجا تنگ کرنے اور سیکورٹی فورسز کی زیادتیوں کا خاتمہ پی ٹی ایم کا ایک اھم مطالبہ ہے ۔ اگر  پی ٹی ایم کو بزور دبانے کی بجائے اس کو سنجیدگی سے سنا جاتا اور اس کی مطالبات کی مناسب شنوائی ھوتی تو خڑکمر واقعے جیسے واقعات نہیں ھوتے۔ ھٹ دھرمی کی وجہ سے ریاست نہ تو عوامی مطالبات کو سننے کیلئے تیار ہے اور نہ اصلاح احوال کیلئے ۔

طاقت کے گھمنڈ اور نشے میں ریاستی ادارے شہریوں کے بنیادی حقوق اور مسلمہ اصول انصاف سے روگردانی یا قانون کو تو ھاتھ میں لے لیتے ھیں لیکن یہ بھول جاتے ھیں کہ عوام سنگین زیادتیاں اور بے انصافیاں بھولتے نہیں اور یہ ناخوشگوار واقعات قوموں کی اجتماعی شعور کا حصہ بن جاتی ہے اور مدتوں یاد رہتی ھیں ۔ انگریز سامراج نہیں رہا مگر قصہ خوانی کی شھدا ء کی یادیں تازہ ھیں ۔ سانحہ بابڑہ کے ذمہ دار کردار نہیں رہے مگر شھداء بابڑہ کا دن ھر سال منایا جاتا ہے ۔